Professor Naela Quadri Baloch

President  The World Baloch Women's Forum

Blog

a suggestion to implement the Liberation Charter

Posted by Naela Quadri Baloch on November 3, 2012 at 10:05 PM

بات مگر احتیاط

پروفیسر نائلہ قادری بلوچ

بھٹو شاہی کا وحشتناک اندھیرا وطن پر چھایا تھا بار کے صدرمیمن صاحب وکلا کے اجلاس میں اعلان کرتے ہیں کہ وزیر اعظم بھٹو بلوچستان بار سے خطاب کرنے آئے گا قادری صاحب کھڑے ہو گئے اورکہا کہ بھٹو چونکہ ڈکٹیٹر ہے بلوچستان پر ملٹری آپریشن کروا رہا ہے وہ ایک جمہوری ادارے میں نہیں آ سکتا " صدر بار نے یاد دلایا" آپ صرف گیارہ ممبر ہیں ہمارے ساتھ وکلا کی اکثریت ہے اور آپ کو اکثریت کی بات ماننی پڑے گی بھٹوضرور آے گا" قادری صاحب نے کرسی اٹھالی" بھٹو آئے گا تو یہ کرسی اس کے سر پر ماروں گا" بھٹو نہیں آیا گورنر ہاؤس میں چاپلوس وکلا نے بھٹو کا خطاب سنا۔ نیپ کے گیارہ وکیل امتیاز حسین حنفی صاحب کی سربراہی میں کبھی گیارہ سے بارہ نہ ہوئے لیکن کبھی دس بھی نہ ہوئے۔۔ ہمارا بچپن بھٹو ملٹری آپریشن کے دھویں سے زہر آلود گزرا صبح گھر سے نکلتے ہوئے باپ کوکبھی اس یقین کے ساتھ خدا حافظ نہیں کہا کہ دوبارہ انہیں زندہ دیکھ سکیں گے بچپن سے ہم نے اپنے گھر میں گوریلا ساتھیوں اور نیپ کے رہنماؤں کو دیکھا لیکن ایک شخصیت ایسی تھی جن کے لئے ابا کے دل میں خاص جگہ تھی ۔ محمد خان لانگو ماما ! وہ یہ چائے پسند نہیں کریں گے ابا نے ٹی کوزی میں ڈھکے قہوے کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا، جس کے ساتھ گرم دودھ اور چینی الگ سے رکھے تھے، میں نے پہلی بار چائے بنانا سیکھا کیونکہ شہیدمجید لانگو کے والد صاحب کو دودھ پتی پسند تھی ننھے ہاتھوں سے جیسی الٹی سیدھی چائے بناتی ماما پی لیتے تھے۔ آج وہی محمد خان لانگو ایک نہیں دو نہیں تین بیٹے بلوچ مٹی پر قربان کر چکے ہیں۔ خدا عمر خضر عطا فرمائے اپنی تدفین کے لئے ابا جان نے ایک پہاڑی ٹیلے کا انتخاب کر رکھا تھا، بے رواج دشمن کے پے در پے چھاپوں کے ہاتھوں چادر بچانے میں کئ سال ابا کا چہرہ نہیں دیکھ سکی ایک دن اطلاع آئی ورنا مجید لانگو نے اپنے شہید بھائی کی طرح بلوچ ہیروز کی تاریخ میں ایک نئے شاندار باب کا اضافہ کردیا ہے اگلے دن بہت دور سے ابا کا پیغام آیا "میں نےاپنی تدفین کی وصیت بدل دی ہے مجھے ورنا مجید جان کے پہلو میں دفنا یا جائے۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا دوستی اور دشمنی کی بنیاد کل بھی بلوچ مٹی تھی آج بھی ہے احترام کا پیمانہ کل بھی قربانی تھی آج بھی ہے لیکن ایک ایسا نام ہے جو کل بہت دورتھا آج بہت پاس ہے نواب اکبرخان بگٹی کا نام۔ یہ کیسی تبدیلی ہے کہ بھٹو کیمپ کا سب سے بڑا ستون سمجھا جانے والا بلوچ کی آبرو پر جان سے گزر گیا۔ اپنی بادشاہی جیسی ریاست، دولت طاقت کیا نہیں تھا جو وطن پہ قربان نہ کیا۔ شہید نواب اکبر بگٹی نے دنیا کو بتایا کہ بلوچ کس شان سے زندہ رہتا ہے اور کس آن سے موت قبول کرتا ہے۔ یہ جادوئی تبدیلی تو نہیں ہو سکتی۔ کیا بلوچ نے ماضی میں انہیں سمجھنے میں غلطی کی یا انہوں نے سمجھایا ہی نہیں اپنی شکائت اپنا دکھ بلوچ سے بانٹا ہی نہیں ۔ بلوچ اس ٹوٹے ہوئے گھرانے کے بچوں کی طرح سہم کر رہ گئے جن کے ماں باپ علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں خاندان تقسیم ہو کر رہ جاتے ہیں بچے اس تقسیم میں جس کے ہاتھ آئے وہ دوسرے کے خلاف زہر افشانیاں کر کے نفرت کے بیج بوتا چلا جاتا ہے یہ سوچے بنا کہ نفرت کی فصل کئ نسلوں کو کاٹنی پڑے گی۔ شہید نواب صاحب کی جدوجہد کے کئ باب ہماری نظروں سے غائب رہےکوئی تحریر کوئ کتاب اتنے سال نہ بولی۔ وہ مجیب الرحمن سے ملے اور بلوچ و بنگالی کے مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان ڈھاکہ میں پریس کے سامنے کیا تو پنجابی فوج کو بخار چڑھ گیا لیکن وہ کیا وجوہات تھیں کہ نیپ نے اعلان لاتعلقی کر دیا بجائے حمائت کرنے کے؟ شال کی سڑکوں پر بنگالیوں پر پاکستانی فوج کشی کے خلاف نواب اکبر بگٹی کی قیادت میں بلوچ مارچ کرتے ہیں تو کس کے ایوان لرزنے لگتے ہیں لیکن اسکی مخالفت پھر ہماری نیپ کیوں کرتی ہے۔ بنگالیوں کے ساتھ ہی پاکستان کو خدا حافظ کرنے کی بجائے مرتے ہوئے پاکستان کو کون سہارا دیتا ہے؟ پھر ساتھیوں سے بے وفائی کا بدلہ لینے کون بلوچ کو آگ و خون میں دھکیل دیتا ہے۔ وہ سب گزر توگیا مگر جگر پر داغ باقی ہیں ان داغوں کو چراغوں کی طرح روشن کر کے آج ان غلطیوں کو دہرانے سے بچا جا سکتا ہے۔ بات کا حق سب کو ہے لیکن احتیاط لازم ہے کہیں کہے لکھے ہوئے تیز دھار لفظ پھر کسی زخم کا باعث نہ بن جائیں۔ بلوچ اپنے بڑوں کی انتہائ قدر کرنے والی قوم ہے ہمارے بزرگوں کے پاس چار ہستیاں تھیں جن کے ایک اشارے پر وہ آگ میں کود جانے کو تیار تھے سردار عطااللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو، نواب خیر بخش مری اورنواب اکبر بگٹی۔ انہوں نے جو بہترین کیا ہمیں اس پر فخر ہے لیکن جو انہوں نے غلط کیا ہم اس کے بھی اتنے ہی وارث ہیں جتنا ان کے کارناموں کے۔ لیکن تب کے بلوچ اور اب کے بلوچ میں ایک نمایاں فرق ہے، تب بلوچ صرف "جی" کہنا جانتا تھا آج "کیوں" کہنا بھی جانتا ہے۔ کل ہمارے بزرگ رہنماؤں کے درمیان دشمن گھسنے میں کامیاب ہو گیا تھا لیکن آج شکست دشمن کا مقدر ہے کیونکہ آج بلوچ رہنماؤں کو تنہا تنہا کر کے توڑنے کی اجازت بلوچ نہیں دے گا۔ آج نواب براہمدغ بگٹی ہیں یا میر حیر بیار مری، بانک کریمہ بلوچ ہیں یا بانک ہوراں بلوچ، میر نوردین مینگل ہیں یا کامریڈ خلیل بلوچ، ماما ‍قدیر ریکی ہیں یا خان سلیمان داؤد، ڈاکٹر اللہ نذر ہیں یا جنرل اسلم کرد یا

جنرل ودود رئیسانی، بلوچ سب سے محبت کرتا ہے سب کا احترام کرتا ہے سب کی رہنمائی کی قدر کرتا ہے لیکن سب سے جواب دہی کا حق بھی رکھتا ہے۔ کسی کی انا بلوچ کی بقا سے بڑھ کر نہیں۔ بلوچ کی رہنمائی کا حق اسی کو حاصل ہے جو اپنی انا کو شکست دے سکتا ہے نہ کہ انا سے شکست کھا کر بلوچ کو تباہ کرسکتا ہے۔ سب کی رائے قابل احترام ہے لیکن اپنی رائے دوسروں پرتھوپنا جائز نہیں۔ چارٹر آزادی پیش کرتے ہوئے میر حیر بیارمری نے یہ قطعا" نہیں کہا کہ یہ کلمہ ہے جس نے نہیں پڑھا وہ کافر ٹھرا، نہ ہی نواب براہمدغ بگٹی نے اسے یکسرمسترد کیا ہے ابھی بحث و مباحثہ کی قطع و برید کی گنجائش باقی ہے۔ ہمیں چارٹر اس نوٹ کے ساتھ ملا کہ ایک مدبر استاد اور ایک مہربان ماں کی طرح پڑھ کر رائے دیں۔ سٹڈی سرکل میں ساتھیوں کے ساتھ چارٹر پڑھ کر اندازہ ہوا کہ اس کی روح نوری نصیر خان کے آئین کی ہے، حقوق کا سٹینڈرڈ اقوام متحدہ کے ڈیکلیریشن آف بیسک ہیومن رائٹس کا اور آزادی کا لائحہ عمل بلوچ ریپبلکن پارٹی کا پروگرام ہے۔ چند نکات بی آر پی کے منشور میں زیادہ واضح ہیں اور کچھ نکات (بلوچ نیاڑی) ورلڈ بلوچ ویمنز فورم کے پروگرام میں ہیں جو چارٹر میں موجود نہیں۔ چند نکات پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔ میری حقیر رائے میں تمام آزادی پسند تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو بین الاقوامی قوانین، سماجیات و سیاسیات کا علم رکھتے ہوں وہ ایک تفصیلی نشست میں چارٹر آزادی، بی آر پی کے پروگرام اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کے پروگرام کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک غیر متنازعہ اور مکمل نمائندہ مینی فیسٹو یا چارٹرمنظور کریں جو دنیا کے سامنے حمائت و تعاون کے لئے پیش کیا جائے تا کہ اقوام متحدہ، امریکی کانگریس یورپی پارلیمنٹ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے لئے آزاد بلوچستان کا مستقبل واضح ہو سکے اور وہ دل کھول کر ہماری تحریک آزادی کی مدد کر سکیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ چار گھنٹے کی مشق ہو گی لیکن اسکا شیریں پھل چار سو صدی تک بلوچ حاصل کرتا رہے گا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

Categories: Professor Quadri's Articles

Post a Comment

Oops!

Oops, you forgot something.

Oops!

The words you entered did not match the given text. Please try again.

Already a member? Sign In

4 Comments

Reply AnnarinRep
12:58 AM on December 8, 2017 
щебень гранитный 5 20
Reply alibaloachkhan@hotmail.com
12:02 PM on November 4, 2012 
Sab tehreek ke saath hain
Reply alibaloachkhan@hotmail.com
12:00 PM on November 4, 2012 
Great bibi
Reply alibaloachkhan@hotmail.com
11:59 AM on November 4, 2012 
Belkol baloach qoam 4,5 sadiyon thak hasil karta rahega