Professor Naela Quadri Baloch

President  The World Baloch Women's Forum

Blog

Baloch go on! freedom is our destiny!

Posted by Naela Quadri Baloch on October 13, 2012 at 3:05 AM

 

 

مڑ کر نہ دیکھو! آگے بڑھتے چلو

پروفیسر نائلہ قادری بلوچ

اکتوبر 2012

بلوچ قومی تحریک آزادی ایک صدی کی مدت پوری کر چکی ہے اس دوران بڑی

چھوٹی فتوحات شکست ریخت تجربات کا ایک بے بہا خزانہ اکھٹا ہو چکا ہے۔ جو قدم قدم پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کے ليےہماری رہنمايی کرتا ہے۔ تجربہ کار لوگ غلط فیصلہ لالچ و بزدلی کی بنا پر تو کر سکتے ہیں لیکن نا تجربہ کاری کا بہانہ نہیں بنا سکتے یہی وجہ ہے کہ بلوچ قومی تحریک آزادی کی قیادت کا بوجھ اٹھانا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل اور چنوتی بھرا ہو چکا ہے اب نۓ تجربات کرنے کے ليےقوم کو اندھا دھند جھونک دینے اور بھیانک نتايج پر مصنوعی معصومیت کا ڈھونگ یہ کہہ کر نہیں رچایا جا سکتا کہ ہمیں کیا پتہ تھا کہ دشمن دھوکہ باز ہیں؛ کیونکہ ہماری قومی تاریخ کی لیبارٹری میں ہرٹیسٹ کا نتیجہ بار بار یہی آ چکا ہے کہ ہمارا دشمن جھوٹا دھوکہ باز اور انتہايی بزدل ہے جس کے اسلامی لبادے کے پیچھے کافر چھپا ہے جو قران پر جھوٹ بولتا ہے جو ہماری بہنوں بیٹیوں کو بے آبرو کرتا ہے ہمارے بزرگوں کی سفید داڑھی کی بے حرمتی کرتا ہےہمارے لعل و گہر جیسے نوجوان جن پر بلوچستان کا مستقبل منحصر ہے ان کے دل اور آنکھیں ڈرل مشین سے چھلنی کرتا ہے جیسے ہماری آنکھوں اور دلوں سے آزادی کے خواب وہ ایسے چھین ہی تو لے گا لیکن جب دیکھتا ہے کہ زخموں سے چور شہدا کے مزار خوف کی بجاۓ جذبہء آزادی کے مینار نور بن جاتے ہیں تو ذلت و شکست خوردگی کے ہاتھوں پگلا کر شہدا کے مزار جلانے کی نیچ ترین حرکت تک سے دریغ نہیں کرتا۔ اس دشمن سے ہاتھ ملانے اس کے کسی ذیلی ادارے مثلا میڈیا سپریم کورٹ پارلیمنٹ یا فوج پر بھروسہ کرنا غلطی نہیں بلکہ گناہ ہے گناہ کبیرہ ہے۔ کیونکہ تحریک کسی ابتدائی سطح پر نہیں کہ کسی کو دشمن کی ادا‎ؤں کا اندازہ نہیں اور غلطی ہو گئی۔ آج بلوچ کا بچہ بچہ دشمن کے ہر ہتھکنڈے سے واقف ہے اسی لیۓ آج بلوچ کی قیادت ہر کسی کے بس کی بات نہیں کہ چند جذباتی نعروں سے بہلا دیا اورپارلیمانی منڈی میں لے جا کر بیچ دیا۔ اگر آج بلوچ نے اپنی ننگ و ناموس کی چادرسے آزادی کا پرچم بنایا ہے اسے شہدا کے انمول خون سے رنگ دیا ہے تو وہ اس پرچم کو ہر حال میں بلند رکھنا بھی سیکھ چکا ہے۔ سو سال کے سفر میں آج وہ خوبصورت مقام آیا ہے جب پہلی بار بلوچ خود اپنا رہنما بنا ہے آج وہ کسی طلسماتی شخصیت پربھروسہ کرنے کی بجاۓ اپنے جذبہ آزادی پر بھروسہ کرتا ہے۔ آزادی کے

کارواں میں جو شامل ہے وہ قابل صد احترام ہے اگلے پچھلے گناہ معاف کروانے کے ليے قومی حج سمجھیں یا آگ و آب کا امتحان جس سے گزرنے والا پاک صاف سچا بلوچ بن کے نکلتا ہے بد قسمت ہو گا وہ انسان جسے بلوچ مٹی نے جنم دیا بلوچ ہواؤں نے پروان چڑھایا بلوچ سمندر نے پہچان دی بلوچ کوہساروں نے عظمت دی لیکن وہ بلوچ وطن کے ننگ و ناموس کی جنگ میں شامل نہیں لیکن بد بخت ترین وہ ہے جو آج بلوچ کے فتح و کامرانی کی طرف گامزن کاروان آزادی کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ تو بلکل واضح ہے کہ ایسی کوئی کوشش کامیابی کا تصور بھی نہیں کر سکتی لیکن قابض ریاست کے گلے میں پڑے پھندے کو ڈھیلا کرنے کی کوشش ضرور سمجھی جا سکتی ہے۔

قابض ریاست اس وقت انتہائی مشکل میں پھنس چکی ہے۔ بین الاقوامی ہایئڈروکاربن جنگ میں انرجی کاریڈور پر قبضہ کرنے کے خواب چکنا چور ہو چکے ہیں بلکہ جاۓ ہزیمت تو یہ ہے کہ خود تاریخ کے بد ترین انرجی کرائسس کا شکار ہے۔ بلوچ تیل گیس اور کوئلہ کے ذخائر پر براہ راست فوج کا قبضہ ہے جس سے انرجی کی ضروریات پوری کی جاتی تھیں حتی کہ انہی وسائل سے بجلی بھی پیدا کی جاتی تھی لیکن بلوچ سرمچاروں کی بھرپور جدوجہد نے وسائل کی لوٹ مار میں نمایاں کمی کر دی ہے جس کے نتیجے میں قابض ریاست بلبلا اٹھی ہے کارخانے بند بے روزگاری عروج پر ایکسپورٹ تباہ۔ معیشت کا انحصار بیرونی قرضوں اور امداد پرتھا جن کے حصول کے لئے خطے میں جنگ و دہشت گردی پھیلائی جاتی جس کا پردہ بھی فاش ہو چکا ہے اور بیرونی امداد ختم ہورہی ہے۔ دہشت گردوں کو دہشت گردی ختم کرنے کے لئے ڈالر اور اسلحہ دینے کی مزید حماقت کرنے پر اب کوئی تیار نہیں۔ نیٹو موجود ہے کراۓ کے فوجی کی بھی ضرورت نہیں حال یہ ہے کہ فوج کو تنخواہ دینے کے لئے بھیک مانگنی پڑ رہی ہے۔ لہذا بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ چین کی مکمل فوجی اور اخلاقی رضامندی کے باوجود بلوچ کو کچل کر سونے اور ساحل پر قبضہ کی سازش ناکام ہو چکی۔ الیکشن سر پر ہیں اور بلوچ آزادی کی منزل تک جا پہنچا ہے بلوچ کا الیکشن بائکاٹ ایسا ریفرنڈم ثابت ہوتا نظر آ رہا ہے کہ جس کے بعد اقوام متحدہ کے پاس بلوچستان میں مداخلت کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا جس کے معنے قابض ریاست کا خاتمہ ہے۔ کیا ایسی صورت حال میں سنگل پوائنٹ ایجنڈا "آزادی" پر متحد ہو کر جدوجہد آزادی تیز کرنے کی ضرورت ہے تا کہ دشمن

ناکام ہو یا دشمن کے ذیلی اداروں سپریم کورٹ و پارلیمنٹ کے ڈراموں کا حصہ بننے کی ضرورت ہے تا کہ اقوام عالم کا قابض ریاست پر اعتماد بحال ہوسکے؟؟ نہیں یہ قابل معافی نہیں یہ ایٹمی دھماکوں کا حصہ بننے سے بھی زیادہ بھیانک غلطی ہو گی۔ سوسال کی بلوچ قومی تحریک کے تجربات ایسی غلطی کی بھلے سے اجازت نہ دیتے ہوں ذرا بنگلہ دیش بننے کے وقت کی سنگین غلطی اور اس کے درد انگیز نتائج یاد کر لو دو قومی نظریہ شکست کھا چکا تھا قابض ریاست ٹوٹ چکی تھی بنگالی اپنا ملک الگ کر چکے تھے سوویت یونین متحرک تھا امریکی بحری بیڑہ راستہ بھول چکا تھا وہ وقت بلوچستان کی آزادی کا اعلان کرنے کا تھا یا شکست خوردہ گری پڑی ریاست کو سہارا دے کر نو مہینے کا مخلوط اقتدار لے کر قومی آزادی کی منزل کو چالیس سال پیچھے دھکیل دینے کا؟؟

پھر بلوچ کے گدان جلے چادریں تار تار ہوئیں خون کے دریا بہے آخر ایٹمی دھماکوں کی آگ میں جھونک دیا گیا جس کی تباہ کاری صدیوں تک کینسر اور معذوریوں کی شکل میں جاری رہے گی۔

چالیس سال بعد آج بلوچ پھر آزادی کے قریب ہے بلوچ مٹی کا ذرہ ذرہ آزادی کی تڑپ سے بے قرار ہے۔ آج دشمن تاریخ کے کمزور ترین دور میں ہے کائنات اس کی تباہی پر تلی بیٹھی ہے کل تک اس کے حامی و مدد گار آج اس سے بیزار ہیں اقوام عالم کی نظروں سے گرا پڑا ہے آج بلوچ طوفان ظلم کی بنیاد مٹا دینے کو تیار ہےاگر تھک گۓ ہو تو سانس لے لو خاموشی اختیار کر لو کوئی شغان نہیں دے گا جس کا جتنا بس ہے اتنا سفر کیا لیکن کاروان کوروکنے کی موڑنے کی گمراہ کرنے کی کوشش مت کرو۔

آزادی کی منزل کی طرف بلوچ کاروان بڑھ رہا ہے ساتھیو آگے بڑھو پیچھے مڑ کر دیکھنے والے پتھر کے ہو جائیں گے مڑ کر نہ دیکھو آگے بڑھتے چلو۔ کھونے کو ٹاچر سیل اور غلامی کے سوا کچھ نہیں جیتنے کو باشرف متحدہ جمہوری عظیم بلوچستان ہماری راہ دیکھ رہا ہے۔

=======================================


Categories: Professor Quadri's Articles

Post a Comment

Oops!

Oops, you forgot something.

Oops!

The words you entered did not match the given text. Please try again.

Already a member? Sign In

4 Comments

Reply Naela Quadri Baloch
8:37 AM on November 16, 2012 
Dost Baloch says...
it is the gate way to get our freedom.we r gonig to ward our dream of freedom.now we do not care of any one if some one joins us for freedom of Balochistan he is our sangat.if any one create walls against freedom fighters baloch nation will throw them out side..........
Please one thing more change the coluors its deficult to read the articals due to this current coluors.

Menatwar, hope u like the colors now.
Reply alibaloachkhan@hotmail.com
12:06 PM on November 4, 2012 
Great we are all with freedom and distiny
Reply Ghafoor Mengal
4:25 PM on October 24, 2012 
baaz juaan ....
Reply Dost Baloch
1:36 PM on October 14, 2012 
it is the gate way to get our freedom.we r gonig to ward our dream of freedom.now we do not care of any one if some one joins us for freedom of Balochistan he is our sangat.if any one create walls against freedom fighters baloch nation will throw them out side..........
Please one thing more change the coluors its deficult to read the articals due to this current coluors.

Oops! This site has expired.

If you are the site owner, please renew your premium subscription or contact support.